ابنا: لیڈی ڈاکٹر نے لکھا ہے کہ آل خلیفہ کے جرائم پیشہ سکیورٹی دستوں نے انھیں اور ان کے بعض ساتھیوں کو اسپتال سے گرفتار کیا ان کی آنکھوں پٹی باندھ کر انھیں تفتیشی سینٹر لے گئے جہاں ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر انھیں کمرے میں دوڑاتے رہے جس کی وجہ سے ان سر دیوار سے ٹکرا کر زخمی ہوگئے پھر انھوں نے ہمارے ڈاکٹری اسکارف اتار کر ہمیں ڈانس کرنے پر مجبور کیا ہماری بے عزتی اور توہین کی، ہمیں گالیاں دیں، منہ پر طمانچے لگائے، اور میرے مذہب کے خلاف بدزبانی کی۔ لیڈي ڈاکٹر کے مطابق عورتوں کو خوفناک انداز سے شکنجے دیئے جارہے ہیں اور خواتین کے ساتھ ایسی نازیبا حرکات انجام دی جارہی ہیں جو قابل بیان نہیں۔ لیڈی ڈاکٹر کے مطابق ایک عرب اسلامی ملک بحرین میں خواتین کے ساتھ جب ایسا بھیانک سلوک روا رکھا جارہا ہے تو مرد قیدیوں پر کتنا زیادہ ظلم و ستم ہوگا۔اس خاتون نے حقوق انسانی کےعالمی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ بحرین میں ہونے والے مظالم کی روک تھام کے لئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور بحرین کی ظالم و جابر شاہی حکومت سے عوام کو چھٹکارا دینے اور بحرین میں جمہوریت کی بحالی کے لئے بحرینی عوام کی مدد کریں۔ واضح رہے کہ آل خلیفہ حکومت نے عوام کے پرامن مظاہروں کو کچلنے کے لئے سعودی عرب سے فوجی منگوائے ہیں جنھوں نے بحرین میں بے دردی کے ساتھ مسلمانوں کا قتل عام کیا اور 30 سے زائد مسجدوں اور 70 سے زائد دیگر مذہبی مکانات کو منہدم کیا ہے 1000 سے زائد افراد جیل میں بند ہیں جن میں 100 سے زائد خواتین بھی ہیں۔ قیدیوں میں ڈاکٹر اور لیڈي ڈآکٹر بھی شامل ہیں۔ بحرینی حکومت کی بربریت کا سلسلہ جاری ہے اور حقوق انسانی کی عالمی تنظیم نے آل خلیفی حکومت سے کہا ہے کہ وہ عوام کے خلاف ظلم و ستم کا سلسلہ فوری طور پر بند کردے۔ آل خلیفی حکومت کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ بھی قائم کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔169بشکریہ از مہرخبررساں ایجنسی
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز
بحرین میں مظالم روکنے کےلئے صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت
پلیز